*قیامت صغریٰ*
ڈاکٹر سلیم نواز حشرجعفر آبادی
dr.saleemnawaz789@gmail.com
دنیائے رنگ وبو میں
کیسی یہ فضا چھائی
کھلتی کلی مرجھائی
ہونٹوں سے ہنسی غایب
چہروں پہ مردنی چھائی
خوف وہراس ہر سو
ہر شے اداس ہر سو
بھوک اور پیاس ہر سو
ہر سو دھواں،دھواں ہیں
انسان رو رہا ہے
انسان مر رہا ہے
انساں میں فاصلے ہیں
بے نام آبلے ہیں
ہے موت رقصاں ہر جا
اللہ تو رحم کر
اس دھرتی کے مکیں پر
زیر زمیں جانے سے پہلے،
ہر سو چتائیں روشن
یہ وقت کا درپن
اپنوں کے بنا مدفن
قہر ہے ،بلا ہے،
کیسا یہ سلسلہ ہے
نہتوں پہ کہیں بم ہے
ظالموں جابروں کو
احساس ہے نہ کوی غم
حاکم وقت انہیں کے آگے،
ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں
ظلم وستم ہے جاری
یہ تصویر ہے ہماری
غنچے بنے ہیں کانٹے
قیامت کا ہے عالم
یارب دعایئں سن لے
رحم وکرم کر باری
لہلہاے دہر پھر سے
ظلم و ستم اور
اس مہاماری کی
ہو قیامت صغریٰ یہ ختم
یا رب ہو رحم
یارب ہوکرم،یارب ہو کرم
ماشاءاللہ۔ بہت عمدہ کلام ہے جناب سلیم نواز صاحب کا۔
ReplyDelete