Saturday, May 29, 2021

قیامت صغریٰ ڈاکٹر سلیم نواز حشر جعفر آبادی

 *قیامت صغریٰ* 

ڈاکٹر سلیم نواز حشرجعفر آبادی

dr.saleemnawaz789@gmail.com

دنیائے رنگ وبو میں

کیسی یہ فضا چھائی

کھلتی کلی مرجھائی

ہونٹوں سے ہنسی غایب

چہروں پہ مردنی چھائی

خوف وہراس ہر سو

ہر شے اداس ہر سو

بھوک اور پیاس ہر سو

ہر سو دھواں،دھواں ہیں

انسان رو رہا ہے 

انسان مر رہا ہے

انساں میں فاصلے ہیں

بے نام آبلے ہیں

ہے موت رقصاں ہر جا

اللہ تو رحم کر

اس دھرتی کے مکیں پر

زیر زمیں جانے سے پہلے،

ہر سو چتائیں روشن

یہ وقت کا درپن

اپنوں کے بنا مدفن

قہر ہے ،بلا ہے،

کیسا یہ سلسلہ ہے

نہتوں پہ کہیں بم ہے

ظالموں جابروں کو

احساس ہے نہ کوی غم

حاکم وقت انہیں کے آگے،

ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں

ظلم وستم ہے جاری 

یہ تصویر ہے ہماری

غنچے بنے ہیں کانٹے

قیامت کا ہے عالم

یارب دعایئں سن لے

رحم وکرم کر باری

لہلہاے دہر پھر سے

ظلم و ستم اور 

اس مہاماری کی

ہو قیامت صغریٰ یہ ختم

یا رب ہو رحم 

یارب ہوکرم،یارب ہو کرم

1 comment:

  1. ماشاءاللہ۔ بہت عمدہ کلام ہے جناب سلیم نواز صاحب کا۔

    ReplyDelete